Header Ads Widget

خدا کی راہ میں شمشیر کو میان سے نکالنے والا پہلا شخص

 


 

خدا کی راہ میں شمشیر کو میان سے نکالنے والا پہلا شخص

 

مکہ مکرمہ میں حق و باطل کی کشمکش انتہا کو پہنچ چکی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم گلی گلی بستی بستی یہ پیغام پہنچا رہے تھے کہ خدا ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں( حاجت روا اور مشکل کشا صرف اللہ ہی کی ذات ہے) اللہ تعالی کے سوا کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں میں اس کا بندہ اور رسول ھوں تم جن کی بات کرتے ہو جن ہستیوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو جن کے آگے جھکتے ہو جن کو اپنے نفع ونقصان کا مالک جانتے ہو یہ سب لاچار و عاجز ہیں اس پیغام حق کے خلاف تمام مشرق متحد ہوکر میدان عمل میں آ گئے- یہاں تک کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کے پیاسے بن گئے- مشرکین کو دکھ یہ تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کی پوجا جیسے چاہیں کریں لیکن ھم جن کی پرستش کرتے ہیں ان کی نفی نہ کریں- ہمارے معبودوں کے خلاف لوگوں کے دلوں میں نفرت نہ ڈالیں آخر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی طرح سے بھی پیغام حق لوگوں تک پہنچانے سے نہ روکے تو یہ لوگ آپ کے قتل کے منصوبے بنانے لگے- ادھر مسلمانوں کو ہر وقت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کی فکر رہتی تھی- ایک دن یہ پریشان کن خبر جیسے ہی پورے مکہ میں پھیل گئی کہ مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کر لیا ہے- یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا ہے اس خبر نے اہل اسلام کو تڑپا کر رکھ دیا لوگ مختلف قیاس آرائیاں کر رہے تھے کوئی کہتا تھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے ابھی ابو طالب زندہ ہیں- اور بنو ہاشم کی تلوار ابھی کند نہیں ہوئیں ہاشمی انتقام لینے کے لیے ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ ایک جوان جس کو رسالت
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے بے حد محبت تھی اور اس کی کئی نسبتیں نہیں یار رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تھیں

·         - یہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہ کے فرزند تھے اور رشتے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس نوجوان کے ماموں زاد بھائی تھے
·         - ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا اس نوعمر جانثار کی پھوپھی تھیں- اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس نوجوان کے پھوپھا تھے-
·         - حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بڑی بہن حضرت اسماء بنت ابی بکر اس نوجو ان سے بیاہی گئی تھیں- اس لحاظ سے وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم زلف تھے

جب انہوں نے یہ خبر سنی تو تڑپ اٹھے جوش انتقا م میں تلوار اٹھائی اس کو نیام سے نکالا پھر جلدی سے اٹھ کر گھر سے نکلے اور مکہ کی گلیوں میں کود گئے - ان کا رخ سید الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ وسلم کے گھر کی طرف تھا غصے سے چہرہ سرخ ہو رہا تھا - تیز تیز چلتے ہوئے امام الانبیا حضرت محمد صلی اللہ وسلم کے مکان پر پہنچ گئے ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب سید الانبیاء حضرت محمد صلی وسلم کو خیروعافیت سے اپنے مکان پر دیکھا- رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے اس جانثار کو اس حالت میں آتے دیکھا تو مسکرائے اور فرمایا کہ کہو بھائی خیریت تو ہے یہ تم ننگی تلوار لئے آج کیسے آ رہے ہو انہوں نے بڑے ادب سے عرض کیا میرے ماں باپ آپ سلم پر قربان ہوں میں نے سنا تھا کہ آپ صل وسلم کو دشمنوں نے گرفتار کر لیا ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کردیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تو یہ بات تھی - اے نوجواں اگر واقعی ایسا ہو جاتا تو تم کیا کرتے اس نوجوان نے عرض کیا اللہ کے رسولﷺ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ وسلم پر قربان ہوں- پر ایسا ہو جاتا تو خدا کی قسم میں اہل مکہ سے لڑ مرتا نوجوان کا یہ جواب سن کر سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک خوشی سے چمک اٹھا- رسول اللہ صلی وسلم سے بے حد محبت کرنے والا اور آپ صلی اللہ وسلم کے لئے لڑنے والا یہ نوجوان سیدنا حضرت زبیر بن العوام ؓ تھے- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان جاں نثار کے لئے دعا فرمائی اور اس کی تلوار کو بھی دعا دی- یہ پہلا شخص تھا جس نے راہ خدا میں سب سے پہلے تلوار اٹھائی

 


خدا کی راہ میں شہید کو میںان سے نکالنے والا پہلا شخص
خدا کی راہ میں شہید کو میںان سے نکالنے والا پہلا شخص


 

Post a Comment

0 Comments