Header Ads Widget

۔۔(6 )چھ کلموں کی حقیقت

السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔

 

اس اہم موضوع کو لازمی پڑھیں

۔۔(6 )چھ کلموں کی حقیقت

____________

بسم اللہ الرحمن الرحیم

برصغیر پاک وہند میں شش کلمے کے نام سے چند دعائیہ کلمات اور تسبیحات بہت پابندی سے بچوں کو یاد کروائے جاتے ہیں،

 اس تحریر میں ہم آپ کے سامنے ان کلمات کی حقیقت بیان کرنے کی کوشش کریں گے

چھ کلمے جو معروف ہیں :

______________________________________

پہلا کلمہ طیب

لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲِ

اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں.

یہ کلمہ حدیث مبارکہ سے ثابت ہے،

 

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمائی تو تکبر کرنے والی ایک قوم کاذکرکیا: یقیناجب انہیں لاالہ الااللہ کہا جاتاہے تو تکبر کرتےہیں.

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب کفرکرنے والوں نے اپنے دلوں میں جاہلیت والی ضد رکھی تواللہ نے اپنا سکون واطمینان اپنے رسول اور

مومنوں پراتارا اوران کےلئے کلمة التقوی کولازم قرار دیا اوراس کے زیادہ مستحق اوراہل تھے اوروہ (کلمة التقوی)

’’لا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ‘‘ہے۔حدیبیہ والے دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مشرکین سے معاہدہ کیا تومشرکین نے اس کلمہ سےتکبرکیاتھا

[کتاب الاسماء والصفات للبیہقی:ـ جلد1 صفحہ نمبر263 حدیث نمبر195۔ ناشر:مکتبة السوادی، جدة ،الطبعة الأولی]۔

 

یہ حدیث بالکل صحیح ہے، اس کی سندکے سارے راوی سچے اورقابل اعتماد ہیں

______________________________________

 

دوسرا کلمہ شہادت کہا جاتا ہے جو ایمان کا لفظی اقرار ہے

 

اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ ﷲُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ

یہ بھی الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ احادیث سے ثابت ہے، اور اس کو پڑھنے کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے،

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص دن بھر میں سو مرتبہ یہ دعا پڑھے گا «لا إله إلا الله وحده لا شريك له،‏‏‏‏ له الملك،‏‏‏‏ وله الحمد،‏‏‏‏ وهو على كل شىء قدير‏.‏

”نہیں ہے کوئی معبود، سوا اللہ تعالیٰ کے، اس کا کوئی شریک نہیں، ملک اسی کا ہے۔ اور تمام تعریف اسی کے لیے ہے اور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔“

تو اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔ سو نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھی جائیں گی اور سو برائیاں اس سے مٹا

دی جائیں گی۔ دن بھر یہ دعا شیطان سے اس کی حفاظت کرتی رہے گی۔ تاآنکہ شام ہو جائے اور کوئی شخص اس سے بہتر عمل لے

کر نہ آئے گا، مگر جو اس سے بھی زیادہ یہ کلمہ پڑھ لے۔

 

(صحیح بخاری 3293)

_______________________________________

 

تیسرا کلمہ تمجید کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے؛
 

سُبْحَانَ ﷲِ وَالْحَمْد ﷲِ وَلَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ وَﷲُ اَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ الْعَلِيِ الْعَظِيْمِ

 

یہ الفاظ الگ الگ دو مختلف احادیث میں آئے ہیں

 

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں یہ کلمات کہوں سبحان اللہ، الحمد للہ

لا الہ الا اللہ ،اللہ اکبر تو یہ میرے نزدیک ان سب اشیا سے زیادہ محبوب ہیں جن پر سورج طلوع ہوتا ہے (یعنی ساری دنیا سے زیادہ

محبوب) (مسلم)

 

سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے عبداللہ بن قیس کلمہ لا حول ولا

قوۃ الا باللہ کہا کرو کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے

 

(بخاری، مسلم)

_________________________________________

 

چوتھا کلمہ جس کو توحید کہا جاتا ہے؛

 

لَآ اِلٰهَ اِلاَّ ﷲُ وَحْدَهُ لَاشَرِيْکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْی وَيُمِيْتُ وَهُوَ حَيٌّ لَّا يَمُوْتُ اَبَدًا اَبَدًا ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَعَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيْر.

 

ان میں سے بعض الفاظ قرآن مجید کے ضرور ہیں مگر یہ کلمات اس ترتیب کے ساتھ ثابت نہیں ہیں؛

______________________________________

 

پانچواں کلمہ اِستغفار

 

اَسْتَغْفِرُ ﷲَ رَبِّيْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ اَذْنَبْتُهُ عَمَدًا اَوْ خَطَاً سِرًّا اَوْ عَلَانِيَةً وَّاَتُوْبُ اِلَيْهِ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِيْ اَعْلَمُ وَمِنَ الذَّنْبِ الَّذِيْ لَآ اَعْلَمُ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ وَسَتَّارُ الْعُيُوْبِ وَغَفَّارُ الذُّنُوْبِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ.

 

یہ الفاظ اس ترتیب کے ساتھ قرآن و حدیث میں کہیں بھی مذکور نہیں ہیں

________________________________________

 

6 چھٹا کلمہ ردِّ کفر

 

اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ شَيْئًا وَّاَنَا اَعْلَمُ بِهِ وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَآ اَعْلَمُ بِهِ تُبْتُ عَنْهُ وَتَبَرَّاْتُ مِنَ الْکُفْرِ وَالشِّرْکِ وَالْکِذْبِ وَالْغِيْبَةِ وَالْبِدْعَةِ وَالنَّمِيْمَةِ وَالْفَوَاحِشِ وَالْبُهْتَانِ وَالْمَعَاصِيْ کُلِّهَا وَاَسْلَمْتُ وَاَقُوْلُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ.

 

یہ بھی دعائیہ کلمات ہیں جن کا مصدر معلوم نہیں ...

________________________________________

 

خلاصہ : چھ کلموں کو بر صغیر میں علماء نے مشہور کیا کیونکہ عوام عربی سے ناواقف تھے لہذا ان کو مختصر الفاظ میں دعائیں سکھا دیں، لیکن ان پر دوام اور سختی سے عمل پیرا ہونے کا ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ جس طرح سورہ یٰس کی فضیلت میں غلو سے کام لیا گیا، بدعات ایجاد کی گئیں۔ نتیجۃً سورہ البقرۃ اور سورہ الکہف جیسی افضل سورۃ کو لوگوں نے نظر انداز کیا۔ اور ثابت شدہ فضائل سے بھی محروم ہوگئے۔

 

بالکل اسی طرح یہ مجوزہ چھ کلمے یاد کروانے میں شدت اور فضیلت میں غلو سے کام لیا گیا کہ ہمارے بچوں کی اکثریت سید الاستغفار اور صبح شام کے مسنون اذکار سے محروم ہو گئی۔ان میں سے زیادہ تر صرف عربی میں بعض قرانی الفاظ پر مشتمل الله کی تعریف پر منبی کلمات ہیں- جن کا کوئی شرعی ثبوت مذکورہ ترتیب اور مذکورہ اسماء کے ساتھ نہیں ملتا.ان کو جو یاد نہ کرے اس پر کوئی عیب نہیں اور جو حدیث میں موجود نبی صلی الله علیہ وسلم کی دعائیں یاد کرے تو وہ بھی بہتر ہے کلمات میں جو الفاظ و دعائیں ہیں ،ان میں سے جو حدیث میں موجود ہیں جو نبی سے ثابت ہیں ان کویاد کرسکتے ہیں۔ لوگوں میں یہ چیز باور کرائی جارہی ہے کہ نعوذ باللہ جس کو یہ چھہ کلمے یاد نہیں اس کا ایمان کمزور ہے۔ کلمے یاد ہونا نہ ہونا ایمان کا پیمانہ نہیں نہ ہی اسکی کوئی اضافی فضیلت ہے۔ مسنون کلمات کو اکٹھا کرکے ایک مجموعہ بنادینے پر دو مؤقف ہوسکتے ہیں لیکن اسکو عوام پر تھونپ دینا نری جہالت کے علاوہ کچھ نہیں۔

 

نوٹ : واضح رہے کہ یہ ترتیب اور تعداد حدیث سے ثابت نہیں۔


(6 )چھ کلموں کی حقیقت
(6 )چھ کلموں کی حقیقت


Post a Comment

0 Comments