رسول ﷺاور حضرت عائشہ ؓ کی بے مثال قابل اتباع زندگی کی چند جھلکیاں
ایک روز حضور ﷺ اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ ایک حجرہ میں تشریف فرما تھے- کسی بات پر امہات المومنین زور زور سے گفتگو کر رہی تھیں اور ہنس رہی تھیں- خود نبی ﷺ بھی اس محفل میں شریک تھے کہ اسی اثنا میں حضرت عمر ؓ تشریف لے آئے- تمام ازواج رسول ﷺ یک دم خاموش ہوگئیں( جیسےکوئی یہاں ہے ہی نہیں) آپ ﷺ نے ایک دم بدلی ہوئی حالت دیکھی تو ہنس پڑے- حضرت فاروق اعظم ؓ نے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو فرمایا: عمر " یہ تم سے بہت ڈرتی ہیں- ابھی تمہاری آمد سے پہلے یہ خوب ھنس کھیل رہی تھیں میں نے اسے کہا تھا اور اب دیکھو جیسے ان میں سے کسی کے منہ میں زباں ہی نہیں ہے"- حضرت عمر ؓ نے یہ سن کر فرمایا- بے وقوف مجھ سے ڈرتی ہو اور اللہ کے رسول ﷺ سے نہیں ڈرتی- جن سے میں تو کیا تمام مسلمان ڈرتے ہیں( بخاری)
ایک مرتبہ حضرت عائشہ ؓ حضور ﷺ سے کسی بات پر کچھ ناراض ہو گئیں اور غصے میں آ کر ذرا اونچی آوازمیں آپ ﷺ سے بات کرنے لگیں- کہ اسی اثنا میں چضرت ابو بکر صدیق ؓ بھی ملاقات کے لیے تشریف لے آئے جب آپ ؓ نے اپنی بیٹی کو آپ ﷺ سے یوں مخاطب دیکھا تو غصہ سے بے تاب ہو گئے اور یہ فرماتے ہوئے تھپڑ مارنے کو آگے بڑھے کے تم اللہ کے رسول ﷺ سے اس لہجہ میں بات کرتی ہوں آنحضرت ﷺ نے جب یار غار ؓ کے بدلے ہوئے تیور دیکھے تو جلدی سے اٹھ کر درمیان میں آ گئے اور حضرت عائشہ ؓ کو بچا لیا- حضرت صدیق ؓ طیش میں بھرے ہوئے واپس لوٹ گئے تو نبی ﷺ نے مسکرا کر چھوڑنے کی غرض سے فرمایا" کیوں عائشہ بچا لیا نا ورنہ دماغ ٹھکانے آ جاتا" تو سیدہ صدیقہ ؓ بھی زیر لب مسکرا کر شرمندہ سی ہو گئیں (داؤد - ج2)


0 Comments