Header Ads Widget

حضرت جعفر طیار ا ؓ

 

 

 

حضرت جعفر طیار      ا  ؓ

جب کفار نے مسلمانوں کو بے حد ستانا شروع کر دیا تو نبی صلى الله عليه وسلم نے صحابہ کو اجازت دے دی کہ تم میں سے جو چاہے اپنی جان و ایمان کو بچانے کے لیے حبشہ چلا جائے۔ اس اجازت کے بعد ایک اندھیری رات میں ایک چھوٹا سا قافلہ حبشہ کی طرف روانہ ہوا۔ ان کے بعد ایک اور قافلہ حبشہ روانہ ہوا۔ اس میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے چچیرے بھائی حضرت جعفر طیار    ؓ  بھی تھے۔

 قریش نے سمندر تک ان کا تعاقب کیا مگر یہ لوگ کشتیوں میں بیٹھ کر روانہ ہو چکے تھے۔ قریش مکہ نے ایک وفد ابو سفیان کی قیادت میں تحائف دے کر شاہ حبشہ کی خدمت میں بھیجا۔ انہوں نے جا کر بادشاہ سے درخواست کی۔ کہ ہمارے ملک سے آنے والوں کو ہمارے سپرد کیا جائے۔ بادشاہ نے پیغام بھیج کر مسلمانوں کو دربار میں بلایا۔ اور حقیقت حال دریافت کی۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے چچیرے بھائی حضرت جعفر طیار   ؓ  نے شاہ حبشہ کے دربار میں ایک پر درد تقریر کی جس سے اہل دربار تڑپ اٹھے۔ بادشاہ نے کہا نوجوان تمہیں اپنے نبی صلى الله عليه وسلم پر اتری ہوئی کلام کا کوئی حصہ یاد ہو تو سناؤ۔ حضرت جعفر   ؓ نے موقع محل کی مناسبت سے ان عیسائیوں کے سامنے حضرت مریم صدیقہ  ؓ  کا قصہ چھیڑ دیا۔ ابھی چند آیات ہی تلاوت کی تھیں کہ بادشاہ پر رقت طاری ہو گئی اور وہ زار و قطار رونے زندہ اس کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ دربار میں بیٹھے ہوئے اس کے پادری بھی اتنا روئے کہ ان کے سامنے پڑے ہوئے صحیفے ان کے آنسوؤں سے تر ہو گئے۔ اس وقت بادشاہ نے کہا۔ اللہ کی قسم یہ تو وہی ہے جس کی خبر حضرت یسوع مسیح (حضرت عیسٰی )نے دی تھی۔ پھر قریش کے وفد سے کہا میں ان لوگوں کو ہرگز تمہارے حوالہ نہیں کروں گا۔ تم میرے دربار سے نکل جاؤ۔ اس کے بعد ایک عرصہ تک مسلمان بڑے سکون سے حبشہ میں زندگی گزارتے رہے۔ جب نبی صلى الله عليه وسلم نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمائی تو کئی مسلمان حبشہ چھوڑ کر مدینہ چلے آئے۔ حضرت جعفر طیار    ؓ جو ایک عرصہ تک حبشہ میں غریب الوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ انہوں نے بھی حبشہ کی سکونت کو ترک کرنے کا ارادہ فرما لیا۔ حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں لکھا ہے کہ حضرت جعفر   ؓجب حبشہ سے چلنے لگے تو رسمی اجازت کے لیے نجاشی سے ملنے گئے۔ نجاشی نے حضرت جعفر   ؓکو رخصت کرتے وقت درخواست کی کہ پیغمبر عربی کو میرا سلام کہنا اور یہ بھی کہ میں اللہ کے ایک ہونے اور آپ کے رسول ہونے کی شہادت دیتا ہوں میں نے تم سے یہاں جو سلوک کیا ہے۔ اس کا ذکر بھی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے کرنا اور یہ بھی کہ آپ میرے لیے بخشش کی دعا کریں۔ جب حضرت جعفر  ؓ حبشہ کو چھوڑ کر مدینہ طیبہ پہنچے تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم خیبر روانہ ہو چکے تھے۔ خدا کے یہ نیک بندے ایک عرصہ سے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی زیارت کو تڑپ رہے تھے۔ جب انہوں نے سنا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم خیبر روانہ ہو گئے ہیں تو ان کے لیے ایک پل بھی مدینہ میں کاٹنا مشکل ہو گیا یہ فوراً خیبر روانہ ہو گئے۔ جب یہ خیبر پہنچے تو اس وقت خیبر فتح ہو چکا تھا۔ مسلمان فتح کی خوشی منا رہے تھے۔ مسلمانوں نے جب اپنے ان مہاجر بھائیوں کو دیکھا تو خوشیاں دوبالا ہو گئیں۔ علامہ ابن سعد کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جب حضرت جعفر طیار ؓ  کو دیکھا تو چہرہ مبارک خوشی سے چمک اٹھا ان کو گلے لگا کر پیشانی پر بوسہ دے کر فرمایا میں نہیں جانتا کہ مجھ کو خیبر کے فتح ہونے سے زیادہ خوشی ہوئی ہے یا جعفر  ؓ کے آنے سے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ہر ایک کو مسکرا کر گلے لگایا اور مرحبا کہا۔

(بخاری ابن ہشام)

 

 


 

Post a Comment

0 Comments