گھر تمہاری بیوی کا ہے، تمہارا نہیں، یاد رکھنا
یہ بات معروف ہے کہ مرد اپنے گھر کا مالک ہوتا ہے، مگر مرد سکون اپنی بیوی کے پاس پاتا ہے (تاکہ تم ان کے پاس جاکے سکون حاصل کرو)
جی ہاں۔۔۔ یہ آپ کی بیویوں کے گھر ہیں۔۔!
سو
قران کریم کے خزانوں میں سے اس آیت پہ میرا گزر ہوا: (ان عورتوں کو ان کے گھروں سے
مت نکالو)..
اللہ
تعالی نے گھر کی نسبت عورت کی طرف کیوں کی حالانکہ وہ مرد کی ملکیت ہے؟
اس
بات نے مجھے ان آیات کو تلاش کرنے پہ مجبور کیا جن میں گھر کا لفظ عورت کے ساتھ
جُڑ کے آیا ہے، تو مجھے یہ آیات ملیں جن میں عورت کی دلجوئی کی گئی ہے، اس کے
جذبات کی رعایت کی گئی ہے اور اسے اہمیت، احترام اور عزت کے بڑے حصے سے نوازا گیا
ہے۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں:
(اور جس عورت کے گھر میں
وہ رہتے تھے اس نے انہیں ورغلانے کی کوشش کی)
عزیز
مصر کی بیوی یوسف علیہ السلام کو ورغلا رہی ہے اور گناہ کا ارادہ کررہی ہے، اس کے
باوجود اللہ تعالی یہ نہیں فرماتے کہ ان کو عزیز کی بیوی نے بہکایا، نہ ہی یہ
فرمایا کہ عزیز کی بیوی نے یوسف کو عزیز کے گھر میں ورغلایا۔
اللہ
تعالی فرماتے ہیں:
(اور اپنے گھروں میں قرار
سے رہو اور جاہلیت والا بناؤ سنگھار نہ دکھاتی پھرو)
اور اللہ تعالی فرماتے ہیں:
(اور تمہارے گھروں میں جو
اللہ کی آیات اور حکمت کی باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو)
اے
اللہ آپ کتنے عظیم ہیں !
کیا
یہ گھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت نہیں تھے؟ لیکن ان کی نسبت آپ کی
ازواج کی طرف کی گئی !
کیا
ہی اعزاز کی بات ہے !
اور
اللہ تعالی فرماتے ہیں:
(اے نبی! جب تم لوگ
عورتوں کو طلاق دینے لگو تو ان کی عدت کے وقت طلاق دو اور عدت کو اچھی طرح شمار
کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا پروردگار ہے، ان عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ
نکالو)
حتی
کہ اختلاف کے موقع پہ جبکہ لڑائی سخت ہوجائے اور معاملات طلاق رجعی تک پہنچ جائیں
تب بھی مرد عورت کے گھر میں ہے۔۔!!
🔶 صرف ایک آیت بچتی ہے جس میں گھر کو عورت سے
منسوب نہیں کیا گیا اور وہ یہ ہے:
(تمہاری عورتوں میں سے جو
بدکاری کا ارتکاب کریں ان پہ اپنے میں سے چار گواہ بنالو، چنانچہ اگر وہ گواہی دیں
تو ان عورتوں کو گھروں میں روک کے رکھو، یہاں تک کہ انہیں موت اٹھا کے لے جائے یا
اللہ ان کے لیے کوئی راستہ پیدا کردے)
پس
جب عورت بدکاری کرے اور چار عادل گواہوں سے ثابت بھی ہوجائے تب گھر کی نسبت اس کی
طرف نہیں کی جائے گی،
اب
اعزاز چھین لیا گیا۔۔!
کیا
خوبصورتی اور باریکی ہے اللہ کی آیات میں، پاک ہے وہ ذات جس کا یہ کلام ہے۔
اللہ
کی قسم میں نے کوئی دین ایسا نہیں دیکھا جو عورت کی عزت اسلام کی طرح بچائے اور
بڑھائے۔
یہ
ہیں عورت کے حقوق اسلام میں نہ کہ آزادی، عریانی اور بگاڑ کے داعی لوگوں کی نظر
میں۔
یہ
ہے ہمارا دین اسلام ۔۔

گھر تمہاری بیوی کا ہے، تمہارا نہیں، یاد رکھنا

0 Comments